اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرینی دارالحکومت "منامہ" میں مقیم اسلامی جمہوریہ کے سفیر "حسین امیر عبداللہیان" نے گذشتہ بدھ کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں بحرین کے وزیر اعظم " امیر خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ" سے ملاقات کی ہے۔
بحرین کے وزیر اعظم نے اس ملاقات میں ایران اور بحرین کے عوام اور قائدین کے درمیان برادرانہ تعلقات اور دوطرف معاشی اور تجارتی تعاون کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ دوطرفہ تعلقات کا فروغ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہے۔
انھوں نے علاقائی امن کے حوالے سے خطے کے ممالک کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ مفاہمت، یکجہتی اور ہمدلی کی فضا قائم کریں اور ان ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعلق اور رابطوں کے تسلسل پر زورد دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے عوام کے لئے ایسی فضا کے قیام کی ضرورت ہے جس میں عوام اطمینان کے ساتھ اپنے ممالک کی ترقی کے لئے کام کرسکیں۔
انھوں نے کہا امیر خلیفہ بن سلمان آل خلیفہ کہ خطے میں امن و آشتی کے قیام کی ذمہ داری ابتدائی طور خطے کے ممالک پر ہی عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دشمن قوتیں علاقے کے ممالک کے درمیان اختلاف ڈالنے کے در پے ہیں اور اس علاقے کے امن و استحکام کے دشمن بھی بے شمار ہیں۔
بحرین کے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے اس حساس اور اہم خطے میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ علاقے کو جنگ و جدل سے دور رکھا جائے؛ بحران پیدا کرنے والے عوامل کا سد باب کیا جائے اور پرامن بقائے باہمی اور ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ زندگی کے اصولوں اور پالیسیوں کی پابندی کی جائے۔
انھوں نے ایران کے اعلی حکام کے ساتھ بحرین اور خطے کے دیگر ممالک کے حکام کی ملاقاتوں اور مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایران اور علاقے کے ممالک کی طرف سے عالمی اور علاقائی سطح پر مشترکہ موقف اپنانے پر تأکید کی اور کہا کہ یہی وہ پالیسی ہے جس کی بنا پر علاقے کے عوام اپنے مستقبل سے مطمئن ہوسکتے ہیں اور حکومتیں علاقے کی ترقی اور اتحاد و یکجہتی کے لئے کام کرسکتے ہیں۔
بحرین کے وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے علاقے میں ایران فوبیا کی ترویج اور علاقائی ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرنے کے رجحان کو بے فائدہ قرار دیا اور ایران کی خیر سگالی کے جذبے کی تعریف کی۔